خفیف الحرکاتی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - اوچھی حرکتیں کرنا، چھچھورا پن، کم ظرفی۔ "ہمارے تنزل میں ان کی کمزوریوں اور خفیف الحرکاتوں کا حصہ بھی شامل ہے۔"      ( ١٩٢٤ء، فطرت نسوانی، ٢٥ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ اسم صفت 'خفیف' کے ساتھ 'ال' بطور حرف تخصیص لگانے کے بعد عربی زبان سے ہی ماخوذ اسم 'حرکات' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقہ کیفیت ملانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے ١٩٢٤ء میں "فطرت نسوانی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - اوچھی حرکتیں کرنا، چھچھورا پن، کم ظرفی۔ "ہمارے تنزل میں ان کی کمزوریوں اور خفیف الحرکاتوں کا حصہ بھی شامل ہے۔"      ( ١٩٢٤ء، فطرت نسوانی، ٢٥ )

جنس: مؤنث